Welcome, Unregistered.

If this is your first visit, be sure to check out the http://www.urdustuff.com/forums/FAQ by clicking the link above. You may have to http://www.urdustuff.com/forums/register before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages, select the forum that you want to visit from the selection below.

Reply
Old 12-12-2011, 11:47 AM   #1 (permalink)
 
Status: Junior Member
Join Date: Dec 2011
Posts: 5

Thanks: 1
Thanked 1 Time in 1 Post


Thumbs up postgraduate doctor



میں ایک ڈاکٹر ھوں،ایک پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹر۔ھم ڈاکٹر سے پوسٹ ٰگریجوئٹ ڈاکٹر کیسے بنے اس سوال کا جواب پوری داستاں کا متقا ضی ھے۔ تو صا حب وا قعہ یہ ھے کہ جب ھم نے اپنی میڈیکل کی تعلیم کے تمام سال بخیر و عا فیت پورے کر لیے تو ھمیں یونیورسٹی کی طر ف سے بلا آ خر ڈاکٹری کی ڈگری مل گئی۔ھمیں ڈاکٹری کی ڈگری کیا ملی گویا پارس پتھر مل گیا ھو۔ھمارے گھر پر عزیز و ا قارب کا تا نتا بن گیا۔جسے دیکھو ھاتھ میں ھار پھول لیے ھمارے گھر چلا آ رھا تھا آنے والا ھم پر ھار پھول چڑھاتا،خوب بلائیں ا تارتا،ا ور اس کارنامے پر ھمیں بھت شاباشی بھی دے رھا تھا۔سچ پوچھئیے تو ان دنوں ھم بھی خود کو معاشرے کا با عزت فرد سمجھنے لگے تھے۔اس لیے سینہ پھلائے آسمان میں اڑتے پھرتے تھے۔مختصر یہ کہ راوی ان دنوں ھمارے لیے خوشی ھی خوشی اور چین ھی چین لکھ رھا تھا۔مگر ستیاناس جا ئے لوگوں کا ان سے ھماری یہ خوشی دیکھی نہ گئی۔وہ لوگ جو چند دن پھلے ھم پر ھار پھول چڑھا رھے تھے اور ھمیں شاباشی دے رھے تھے ان لوگوں کا رویہ یک دم بدل گیا۔اب جب ھم ان سے ملتے تو ان کی باتیں کچھ اس طرح کی ھوتیں۔’میاں صا حب زادے بھت ھو گیا کھیل کوداب زرا آگے پڑھنے کی سوچو۔آج کل تو گلی گلی میں ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر بیٹھے ھیں۔بھلا اب ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر کو پوچھتا کون ھے‘۔حاجی صاحب پر تو ھمیں اتنا غصہ آیا تھا کھ دل چا ھتا تھا کھ ان کا منہ نوچ لیں۔یہ وہ صا حب ھیں جو پو رے چھ سال ھمیں یہ درس دیتے رھے کھ بیٹا چھ سال کے لیے اپنے سارے شوق پس پشت ڈال دو۔خوب دل لگا کر مھنت کرو۔اک دفع ڈاکٹر بن گئے تو اس کے بعد مزے ھی مزے ھیں۔اب ان کا بیان ھی بدل گیا تھا۔فرماتے ھیں۔۔ارے صاحب زادے بھلا ایم۔بی۔بی۔ایس کر کے بھی ٰکوئی ڈاکٹر بن جاتا ھے کیا۔صاحب زادے اگر ڈاکٹر بننا ھے تو جا کر پوسٹ گریجوئیشن کرو۔جھوٹے مکار کھیں کے۔اگر ھمیں یہ حقیقت پھلے بتادی گئی ھوتی تو ھم ڈاکٹر بننے کے خیال پر ھی لعنت بھیج دیتے۔خیر صا حب ھمارے ساتھ تو خوب ھاتھ ھوا۔مگر اب پچھتا کے کرتے بھی کیا چڑیاصاحبہ تو کھیت چگ ھی چکی تھیں۔حا لنکہ ڈاکٹر کی ڈگری پانے کے بعد تو ھم شادی کے خواب سجا رھے تھے۔مگر حالات کو بدلتے دیکھ ھم نے بھی شادی کا ارادھ بدل دیا۔ اک روز ھم نے ان صاحبہ کو جن سے ھم شادی کا وعدھ کیے بیٹھے تھے ملنے کے لیے بلوایا۔ان کے سامنے سارے حالات رکھے اور شادی کرنے سے معذوری ظاھر کی۔کچھ دیر تک تو وہ صاحبہ صبر و تحمل سے ھماری باتٰیں سنتی رھیں۔اور ھمیں قائل کرنیکی بھی کوشش کرتی رھیں۔مگر ھم بضد تھے کہ اب تو ھم پہلے پوسٹ گریجوئیشن کرینگے اور تب کہیں جاکر شادی کا سوچیں گے۔ھمیں قائل ھوتا نا دیکھ وہ حسن اخلاق کا مجسم پیکر نظرآنے والی پل بھر میں بدل گٰئی۔خوب لعن طعن،گالم گلوچ یہاں تک کہ ھمارے ساتھ انھوں نے ھاتھا پاٰئی تک کی۔مزید تفصیل اس واقعہ کی سوائے شرمندگی کے کچھ بھی نہیں۔اس لیے لعنت بھجیئے اس قصے پر۔ تو ھم بتا رھے تھے کہ لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر ھم نے پوسٹ گریجوئیشن کرنے کی ٹھان لی۔اک روز ھم یہ مدعا لیکر ابا حضورکے حضور پہنچے ۔ھمارے مزموم ارادے جان کر انکی تیوریاں چڑھ گئیں۔اور اپنے منہ کو وہ جتنا بسور سکتے تھے اس سے کئی زیادہ بسور لیا۔انکے نزدیک تو ھم ڈاکٹر بن چکے تھے۔اب تووہ اس انتظار میں تھے کہ صا حب زادہ کچھ کھانے کمانے کی فکر کرے۔خیر مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے ھم نے انھیں قائل کر ھی لیا۔ لو جی یوں ھم بن گئےایک پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر۔
پوسٹ گریجٹ ڈا کٹرز کی بھی اپنی ھی ایک دنیا ھوتی ھے۔اس دنیا میں مریضوں، بیماریوں اور کتابوں کے سوا کسی اور چیز کا تصور ڈھونڈے نہیں ملتا۔مسلسل اعصاب شکن ڈیوٹیاں کر کے پوسٹ گر یجوئیٹ ڈاکٹرز خود کسی مریض سے کم نہیں لگتے۔ کم خوراکی اور کم خوابی کی وجہ سے اکثر کے چہرے زردی ما ئل ھوتے ھیں۔سینیئر پوسٹ گریجوئیٹ ڈاکٹرز تو حسرت و یاس کی ایسی تصویر نظر آتے ھیںِ جسے دیکھ کر اچھے بھلے موڈ کا بیڑا غرق ھو جا ئے۔اوّل اوّل تو ھم سوچتے تھے۔الہی یہ ماجرا کیا ھے۔اور جب سے یہ ماجرا سمجھ آیا ھے تب سے ھم خود اپنی صورت دیکھنے سے بھی اجتناب کرتے ھیں۔
پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو سرکار کی طرف سے مہانہ وظیفہ بھی ملتا ھے۔سرکار نے یہ وظیفہ پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹرز کی مالی مدد کے لیے مقرر کیا ھے۔مگر یہ وظیفہ اتنا قلیل ھے کہ ھم اسے پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹر بننے کی سزا سمجھتے ھیں۔اس قلیل وظیفے میں تو ھمارا اپنا گزارا بصد مشکل ھو پاتاھے۔اس لیے گھر پر اک پھوٹی کوڑی تک نہیں دے پاتے۔اس لیے گھر والوں کا رویہ بھی ھم پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے ساتھ بڑا عجیب ھوتا ھے۔ھسپتال سے آکر جب ھم گھرمیں داخل ھوتے ھیں۔تو سب گھر والوں کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر اتے ھیں۔ھمیں یوں مہسوس ھوتا جیسے وہ دل ہی دل میں کہتے ھوں۔آگیا نکھٹو کام کا نا کاج کا دشمن اناج کا۔اول تو ھم سے کھانے کا پو چھا ھی نہین جاتا منہ سے مانگ لو تو کو شش ھوتی ھے کہ کسی طرح بلا ٹل جائے۔اور اگر بحالت مجبوری کھانا دینا پر جائے توپھر ایک حد سے ھمیں آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا۔کچھ روز پہلے کا ھی قصہ ھے۔دو پہر کے کھانے کے دوران ھمارا ھاتھ جب تیسری روٹی کی طرف بڑھا تو اماں جان نے آٹے،تیل،گھی،کی بڑھتی ھوئی قیمتوں اور کم کھانے کی افادیت پر پر مغز تقریرکر ڈالی۔لفظوں اور لہجے میں تا ثیر ایسی کہ روٹی کی طرف بڑھتا ھمارا ھاتھ بے اختیار کھنچ گیا۔ااور ھم ھاتھ اٹھا کر با آ واز بلند کھانے کے بعد کی دعا پڑھنے لگے۔
آہ !!! صاحب آدمی کے دل پہ جب زیادہ بوجھ ان پڑے تو ایسے میں اسکو دوست احباب یاد آتے ھیں۔ھم بھی اکثر دل ھلکا کرنے کو اپنے رفقاء سے پوسٹ گریجویئٹ ڈاکٹرز کی کسمپر سی کا تذکرہ کر دیا کرتے تھے۔پھر عجیب بات یہ ھئی کہ ھمارے رفقاء نے ھم سے ملنا ھی چھوڑ دیا۔شاید انھوں نے بھانپ لیا تھاکہ اگر وہ ھم سے ملتے رہے تو ھم کسی روز ان سے ادھار نہ ما نگ بیٹھیں۔سچ پوچھیے تو ھم اپنے رفقاء کی دور اندیشی کے دل سے قائل ھوگئے ھیں۔
اک روز اس کسمپرسی کے ھاتھوں تنگ آکر ھم اپنے ساتھی ڈاکٹرز کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔سرکار کے خلاف خوب نعرے بازی کی اور اپنے وظیفے میں اضافے کا مطالبہ کیا۔جواباً
پولیس کی مدد سے سرکار نے ھماری وہ خدمت کی کہ اب احتجاج کے نام سے ھی طبعیت گھبرانے لگتی ھے۔
سڑکوں پر سرکار اور ھسپتالوں میں عوام اپنے مسیحاؤں کی وہ خدمت کرتی ھے کہ ڈھارے مار مار کے رونے کا جی چا ھتا ھے۔اب زرا یہ ھسپتال کا قصہ بھی سنیئے۔اک دن کیا ھئا کہ وارڈ میں داخل ایک عمر رسیدہ مریض کی حالت انتھائی نازک تھی۔ھمارے سینئر ڈاکٹرز بھی مریض کی حالت کو تشویشناک قرار دے چکے تھے۔شام کے وقت جب ھم وارڈ میں اکیلے تھے تو مریض کی حالت زیادہ بگڑ گئی۔ھم گھنٹوں مریض کو مختلف انجیکشن لگاتے رھے اور جو کچھ ھم سے ھو سکتا تھا ھم کر رھے تھے اس دوران ھم نے اپنی رفعء حاجت کی خواھش کو موخّر کر رکھا تھا۔مگر جب ضبط کی حد ھو چلی تو ھم نے بحالت مجبوری واش روم کا رخ کیا۔انکل عزرائل تو جیسے اسی گھڑی کی تاک میں تھے ھمارے واسش روم جاتے ھی وہ مریض کی روح کو لیکر چلتے بنے۔جب ھم واش روم سے واپس آئے تو وارڈ میں اک عجیب تماشہ تھا۔
ھر طرف شور و غوغا۔مریض کے لواحقین واویلا کر رھے تھے۔اس شور میں ھمارے کانوں سے فقط اک آواز ٹکرا رھی تھی۔ ڈاکٹر کی غفلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کی غفلت سے مریض مر گیا۔اچانک کہیں سے دو چار لوگ ھاتھ میں مائک اور کیمرہ لیے نمودار ھوگئے۔ وہ خود کو میڈیا کا نمائندہ بتا رھے تھے۔ آتے ھی انھوں نے تندوتیز لہجے میں ھم سے پے درپے سوالات شروع کردیے۔ ڈاکٹر صاحب اتنے سیریئس مریض کو چھوڑ کرآ پ کہاں چلے گئے تھے؟ کیا آپ نے مریض کو کوئی غلط انجیکشن لگا دیا ھے؟ یا پھر مریض کو چھوڑ کر آپ کسی نرس کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھے؟ یہاں میڈیا کے نمائندے ھمارے کردار پر کیچڑاچھال رھے تھے اور ادھر خوف سے ھماری گھگی بندھی ھئی تھی۔ھم سے بات ھی نہیں ھو پا رھی تھی۔ھکلاتے ھئے ھم بس اتنا ھی بول پائے۔صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔بات نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ھم تو واش روم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارے سنیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم ابھی اپنی بات بھی مکمل نہیں کر پائے تھے کہ اچانک مریض کے لواحقین نے ھمارے اوپر ھّلا بول دیا۔عجیب جنونی قسم کے لوگ تھے ھماری ایک نا سنی۔ لاتوں اور گھونسوں سے ھماری وہ دھلائی کی یقین جانیئے طبیعت صاف ھو گئی۔
ان سارے حالات و واقعات نے ھمیں اتنا دل برداشتہ کر دیا ھے کہ آج کل ھم سوچھتے ھیں کہ پیشۂ مسیحائی سے تائب ھو کر کیوں نا تیل بیچیں۔


dr.faizan is offline   Reply With Quote
Sponsored Links

Reply

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are Off

Forum Jump




All times are GMT. The time now is 04:40 PM.


Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.