| |
If this is your first visit, be sure to check out the http://www.urdustuff.com/forums/FAQ by clicking the link above. You may have to http://www.urdustuff.com/forums/register before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages, select the forum that you want to visit from the selection below.
![]() |
|
|
#1 (permalink) |
|
Status: Junior Member
Join Date: Dec 2011
Posts: 5
Thanks: 1
Thanked 1 Time in 1 Post
|
میں ایک ڈاکٹر ھوں،ایک پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹر۔ھم ڈاکٹر سے پوسٹ ٰگریجوئٹ ڈاکٹر کیسے بنے اس سوال کا جواب پوری داستاں کا متقا ضی ھے۔ تو صا حب وا قعہ یہ ھے کہ جب ھم نے اپنی میڈیکل کی تعلیم کے تمام سال بخیر و عا فیت پورے کر لیے تو ھمیں یونیورسٹی کی طر ف سے بلا آ خر ڈاکٹری کی ڈگری مل گئی۔ھمیں ڈاکٹری کی ڈگری کیا ملی گویا پارس پتھر مل گیا ھو۔ھمارے گھر پر عزیز و ا قارب کا تا نتا بن گیا۔جسے دیکھو ھاتھ میں ھار پھول لیے ھمارے گھر چلا آ رھا تھا آنے والا ھم پر ھار پھول چڑھاتا،خوب بلائیں ا تارتا،ا ور اس کارنامے پر ھمیں بھت شاباشی بھی دے رھا تھا۔سچ پوچھئیے تو ان دنوں ھم بھی خود کو معاشرے کا با عزت فرد سمجھنے لگے تھے۔اس لیے سینہ پھلائے آسمان میں اڑتے پھرتے تھے۔مختصر یہ کہ راوی ان دنوں ھمارے لیے خوشی ھی خوشی اور چین ھی چین لکھ رھا تھا۔مگر ستیاناس جا ئے لوگوں کا ان سے ھماری یہ خوشی دیکھی نہ گئی۔وہ لوگ جو چند دن پھلے ھم پر ھار پھول چڑھا رھے تھے اور ھمیں شاباشی دے رھے تھے ان لوگوں کا رویہ یک دم بدل گیا۔اب جب ھم ان سے ملتے تو ان کی باتیں کچھ اس طرح کی ھوتیں۔’میاں صا حب زادے بھت ھو گیا کھیل کوداب زرا آگے پڑھنے کی سوچو۔آج کل تو گلی گلی میں ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر بیٹھے ھیں۔بھلا اب ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر کو پوچھتا کون ھے‘۔حاجی صاحب پر تو ھمیں اتنا غصہ آیا تھا کھ دل چا ھتا تھا کھ ان کا منہ نوچ لیں۔یہ وہ صا حب ھیں جو پو رے چھ سال ھمیں یہ درس دیتے رھے کھ بیٹا چھ سال کے لیے اپنے سارے شوق پس پشت ڈال دو۔خوب دل لگا کر مھنت کرو۔اک دفع ڈاکٹر بن گئے تو اس کے بعد مزے ھی مزے ھیں۔اب ان کا بیان ھی بدل گیا تھا۔فرماتے ھیں۔۔ارے صاحب زادے بھلا ایم۔بی۔بی۔ایس کر کے بھی ٰکوئی ڈاکٹر بن جاتا ھے کیا۔صاحب زادے اگر ڈاکٹر بننا ھے تو جا کر پوسٹ گریجوئیشن کرو۔جھوٹے مکار کھیں کے۔اگر ھمیں یہ حقیقت پھلے بتادی گئی ھوتی تو ھم ڈاکٹر بننے کے خیال پر ھی لعنت بھیج دیتے۔خیر صا حب ھمارے ساتھ تو خوب ھاتھ ھوا۔مگر اب پچھتا کے کرتے بھی کیا چڑیاصاحبہ تو کھیت چگ ھی چکی تھیں۔حا لنکہ ڈاکٹر کی ڈگری پانے کے بعد تو ھم شادی کے خواب سجا رھے تھے۔مگر حالات کو بدلتے دیکھ ھم نے بھی شادی کا ارادھ بدل دیا۔ اک روز ھم نے ان صاحبہ کو جن سے ھم شادی کا وعدھ کیے بیٹھے تھے ملنے کے لیے بلوایا۔ان کے سامنے سارے حالات رکھے اور شادی کرنے سے معذوری ظاھر کی۔کچھ دیر تک تو وہ صاحبہ صبر و تحمل سے ھماری باتٰیں سنتی رھیں۔اور ھمیں قائل کرنیکی بھی کوشش کرتی رھیں۔مگر ھم بضد تھے کہ اب تو ھم پہلے پوسٹ گریجوئیشن کرینگے اور تب کہیں جاکر شادی کا سوچیں گے۔ھمیں قائل ھوتا نا دیکھ وہ حسن اخلاق کا مجسم پیکر نظرآنے والی پل بھر میں بدل گٰئی۔خوب لعن طعن،گالم گلوچ یہاں تک کہ ھمارے ساتھ انھوں نے ھاتھا پاٰئی تک کی۔مزید تفصیل اس واقعہ کی سوائے شرمندگی کے کچھ بھی نہیں۔اس لیے لعنت بھجیئے اس قصے پر۔ تو ھم بتا رھے تھے کہ لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر ھم نے پوسٹ گریجوئیشن کرنے کی ٹھان لی۔اک روز ھم یہ مدعا لیکر ابا حضورکے حضور پہنچے ۔ھمارے مزموم ارادے جان کر انکی تیوریاں چڑھ گئیں۔اور اپنے منہ کو وہ جتنا بسور سکتے تھے اس سے کئی زیادہ بسور لیا۔انکے نزدیک تو ھم ڈاکٹر بن چکے تھے۔اب تووہ اس انتظار میں تھے کہ صا حب زادہ کچھ کھانے کمانے کی فکر کرے۔خیر مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے ھم نے انھیں قائل کر ھی لیا۔ لو جی یوں ھم بن گئےایک پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر۔
پوسٹ گریجٹ ڈا کٹرز کی بھی اپنی ھی ایک دنیا ھوتی ھے۔اس دنیا میں مریضوں، بیماریوں اور کتابوں کے سوا کسی اور چیز کا تصور ڈھونڈے نہیں ملتا۔مسلسل اعصاب شکن ڈیوٹیاں کر کے پوسٹ گر یجوئیٹ ڈاکٹرز خود کسی مریض سے کم نہیں لگتے۔ کم خوراکی اور کم خوابی کی وجہ سے اکثر کے چہرے زردی ما ئل ھوتے ھیں۔سینیئر پوسٹ گریجوئیٹ ڈاکٹرز تو حسرت و یاس کی ایسی تصویر نظر آتے ھیںِ جسے دیکھ کر اچھے بھلے موڈ کا بیڑا غرق ھو جا ئے۔اوّل اوّل تو ھم سوچتے تھے۔الہی یہ ماجرا کیا ھے۔اور جب سے یہ ماجرا سمجھ آیا ھے تب سے ھم خود اپنی صورت دیکھنے سے بھی اجتناب کرتے ھیں۔ پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو سرکار کی طرف سے مہانہ وظیفہ بھی ملتا ھے۔سرکار نے یہ وظیفہ پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹرز کی مالی مدد کے لیے مقرر کیا ھے۔مگر یہ وظیفہ اتنا قلیل ھے کہ ھم اسے پوسٹ گریجوٹ ڈاکٹر بننے کی سزا سمجھتے ھیں۔اس قلیل وظیفے میں تو ھمارا اپنا گزارا بصد مشکل ھو پاتاھے۔اس لیے گھر پر اک پھوٹی کوڑی تک نہیں دے پاتے۔اس لیے گھر والوں کا رویہ بھی ھم پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کے ساتھ بڑا عجیب ھوتا ھے۔ھسپتال سے آکر جب ھم گھرمیں داخل ھوتے ھیں۔تو سب گھر والوں کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر اتے ھیں۔ھمیں یوں مہسوس ھوتا جیسے وہ دل ہی دل میں کہتے ھوں۔آگیا نکھٹو کام کا نا کاج کا دشمن اناج کا۔اول تو ھم سے کھانے کا پو چھا ھی نہین جاتا منہ سے مانگ لو تو کو شش ھوتی ھے کہ کسی طرح بلا ٹل جائے۔اور اگر بحالت مجبوری کھانا دینا پر جائے توپھر ایک حد سے ھمیں آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا۔کچھ روز پہلے کا ھی قصہ ھے۔دو پہر کے کھانے کے دوران ھمارا ھاتھ جب تیسری روٹی کی طرف بڑھا تو اماں جان نے آٹے،تیل،گھی،کی بڑھتی ھوئی قیمتوں اور کم کھانے کی افادیت پر پر مغز تقریرکر ڈالی۔لفظوں اور لہجے میں تا ثیر ایسی کہ روٹی کی طرف بڑھتا ھمارا ھاتھ بے اختیار کھنچ گیا۔ااور ھم ھاتھ اٹھا کر با آ واز بلند کھانے کے بعد کی دعا پڑھنے لگے۔ آہ !!! صاحب آدمی کے دل پہ جب زیادہ بوجھ ان پڑے تو ایسے میں اسکو دوست احباب یاد آتے ھیں۔ھم بھی اکثر دل ھلکا کرنے کو اپنے رفقاء سے پوسٹ گریجویئٹ ڈاکٹرز کی کسمپر سی کا تذکرہ کر دیا کرتے تھے۔پھر عجیب بات یہ ھئی کہ ھمارے رفقاء نے ھم سے ملنا ھی چھوڑ دیا۔شاید انھوں نے بھانپ لیا تھاکہ اگر وہ ھم سے ملتے رہے تو ھم کسی روز ان سے ادھار نہ ما نگ بیٹھیں۔سچ پوچھیے تو ھم اپنے رفقاء کی دور اندیشی کے دل سے قائل ھوگئے ھیں۔ اک روز اس کسمپرسی کے ھاتھوں تنگ آکر ھم اپنے ساتھی ڈاکٹرز کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔سرکار کے خلاف خوب نعرے بازی کی اور اپنے وظیفے میں اضافے کا مطالبہ کیا۔جواباً پولیس کی مدد سے سرکار نے ھماری وہ خدمت کی کہ اب احتجاج کے نام سے ھی طبعیت گھبرانے لگتی ھے۔ سڑکوں پر سرکار اور ھسپتالوں میں عوام اپنے مسیحاؤں کی وہ خدمت کرتی ھے کہ ڈھارے مار مار کے رونے کا جی چا ھتا ھے۔اب زرا یہ ھسپتال کا قصہ بھی سنیئے۔اک دن کیا ھئا کہ وارڈ میں داخل ایک عمر رسیدہ مریض کی حالت انتھائی نازک تھی۔ھمارے سینئر ڈاکٹرز بھی مریض کی حالت کو تشویشناک قرار دے چکے تھے۔شام کے وقت جب ھم وارڈ میں اکیلے تھے تو مریض کی حالت زیادہ بگڑ گئی۔ھم گھنٹوں مریض کو مختلف انجیکشن لگاتے رھے اور جو کچھ ھم سے ھو سکتا تھا ھم کر رھے تھے اس دوران ھم نے اپنی رفعء حاجت کی خواھش کو موخّر کر رکھا تھا۔مگر جب ضبط کی حد ھو چلی تو ھم نے بحالت مجبوری واش روم کا رخ کیا۔انکل عزرائل تو جیسے اسی گھڑی کی تاک میں تھے ھمارے واسش روم جاتے ھی وہ مریض کی روح کو لیکر چلتے بنے۔جب ھم واش روم سے واپس آئے تو وارڈ میں اک عجیب تماشہ تھا۔ ھر طرف شور و غوغا۔مریض کے لواحقین واویلا کر رھے تھے۔اس شور میں ھمارے کانوں سے فقط اک آواز ٹکرا رھی تھی۔ ڈاکٹر کی غفلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کی غفلت سے مریض مر گیا۔اچانک کہیں سے دو چار لوگ ھاتھ میں مائک اور کیمرہ لیے نمودار ھوگئے۔ وہ خود کو میڈیا کا نمائندہ بتا رھے تھے۔ آتے ھی انھوں نے تندوتیز لہجے میں ھم سے پے درپے سوالات شروع کردیے۔ ڈاکٹر صاحب اتنے سیریئس مریض کو چھوڑ کرآ پ کہاں چلے گئے تھے؟ کیا آپ نے مریض کو کوئی غلط انجیکشن لگا دیا ھے؟ یا پھر مریض کو چھوڑ کر آپ کسی نرس کے ساتھ راز و نیاز میں مصروف تھے؟ یہاں میڈیا کے نمائندے ھمارے کردار پر کیچڑاچھال رھے تھے اور ادھر خوف سے ھماری گھگی بندھی ھئی تھی۔ھم سے بات ھی نہیں ھو پا رھی تھی۔ھکلاتے ھئے ھم بس اتنا ھی بول پائے۔صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔بات نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ھم تو واش روم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارے سنیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھم ابھی اپنی بات بھی مکمل نہیں کر پائے تھے کہ اچانک مریض کے لواحقین نے ھمارے اوپر ھّلا بول دیا۔عجیب جنونی قسم کے لوگ تھے ھماری ایک نا سنی۔ لاتوں اور گھونسوں سے ھماری وہ دھلائی کی یقین جانیئے طبیعت صاف ھو گئی۔ ان سارے حالات و واقعات نے ھمیں اتنا دل برداشتہ کر دیا ھے کہ آج کل ھم سوچھتے ھیں کہ پیشۂ مسیحائی سے تائب ھو کر کیوں نا تیل بیچیں۔ Last edited by dr.faizan; 12-12-2011 at 12:58 PM. |
|
|
|
| The Following User Says Thank You to dr.faizan For This Useful Post: | ||
Virdan (12-12-2011) | ||
| Sponsored Links |
|
|
|
|
#2 (permalink) |
|
Status: Administrator
Join Date: Jun 2011
Posts: 470
Thanks: 99
Thanked 287 Times in 215 Posts
|
hahahahahahaha
![]() Dr. Sahib aap ne to kamaal ka Fun create ker diya ![]() Aap ko yahan dekh k bohat acha laga ![]() Keep Coming & Have Fun Here ![]()
__________________
![]() |
|
|
|
| The Following User Says Thank You to Virdan For This Useful Post: | ||
dr.faizan (12-13-2011) | ||
|
|
#3 (permalink) |
|
Status: Junior Member
Join Date: Dec 2011
Posts: 5
Thanks: 1
Thanked 1 Time in 1 Post
|
thank u bahi mujhay bhi ap jesy readers chye hain inshallah posting kerta rahunga
|
|
|
|
|
|
#4 (permalink) |
|
Status: Junior Member
Join Date: Dec 2011
Posts: 5
Thanks: 1
Thanked 1 Time in 1 Post
|
مرزا تمیزالدین
مصّنف: ڈاکٹرفیضان قیصر مرزا تمیزالدین کا شمار ہمارے سابقہ دوستوں میں ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہینگے کہ اللہ انکو جیتا رکھے کیونکہ انھوں نے تو ہمارا جینا حرام کر رکھا ھے اگر وہ جیتے رہے تو مجبوراً ہمیں ہی اپنے مرنے کی دعا مانگنی پڑیگی ۔ مرزا صاحب سے ہماری ملاقات اک ادبی محفل میں ہوئی تھی۔انھیں با ادب سمجھ کے ھم نے ان سے راہ رسم بڑھا لی تھی۔اگرچہ اب ہم اپنی اس غلطی پہ پشیمان ہیں اور اگر مرزا صاحب خود ہمارے لیے سزا نہ بن گئے ھوتے تو ہم خود کو اس غلطی کی سزا ضرور دیتے۔ یوں تو مرزا صاحب کا نام تمیزالدین ہے۔ مگر ھم سمجھتے ہیں کہ انکے نام میں اک کمی ھے جسکی وجہ سے یہ مرزا صاحب کی شخصیت کی صیح طرح عکاسی نہیں کرتا اس لیے بہتر یہ ھوگا کہ انکے نام کے شروع میں’ بد‘ کا اضافہ کر دیا جائے۔مرزا صاحب کے بارے میں مزید جاننے کے بعد ھمیں پورا یقین ھے کہ آپ بھی ہمارے موقف کی تائید کرینگے۔ مرزا صاحب کو شاعری کا بہت شوق ہے۔جناب شاعری لکھتے تو بہت ھیں مگر شاعری پڑھتے بھی ہیں کہ نہیں اس کا کوئی ثبوت ہمیں تو آج تک نہیں ملا ۔ شاعری سے جناب کی واقفیت کا عالم تو یہ ہے کہ ردیف سمجھتے ہیں نہ قافیہ،نہ تو بحر کا پتہ ہے اور نہ وزن کی کچھ خبر ھے اس پہ طرہّ یہ کہ یا تو خود کو شاعر مانتے ہیں یا پھر غالب کو۔ غالب کو بھی غا لباً اس لیے شاعر مانتے ہیں تاکہ لوگوں سے اپنی شاعری کی اہمیت کو منوا سکیں کیونکہ محترم کو اپنی لکھی ہر غزل غالب کی لکھی کسی غزل کی ھم پلہ نظر آتی ہے اور بعض دفعہ تو موصوف اپنی غزل کو غالب کی غزل سے بھی افضل قرار دے دیتے ہیں ہمیں پورا یقین ہے مرزا کی اس حرکت پہ غالب کی روح بھی قبر میں بے چین تو ضرور ہوتی ہوگی مگر جب ہم زندہ ہی مرزا صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے تو وہ بیچاری بھی سوائے تڑپنے کے اور کیا کر سکتی ھے!!!! مرزا کو مشاعرہ پڑھنے کا بھی بہت شوق ہے۔ان کا خیال ہے کہ وہ ھر مشاعرے کی جان ہوتے ہیں حلانکہ آج تک مرزا کے اس خیال کی کسی نےبھی حوصلہ افضائی نہیں کی ہے۔ تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ھے کہ مرزا صاحب کے کلام کو دیکھنے کے بعد انھیں اکثر تو مشاعرہ پڑھنے کی اجازت تک نہیں ملتی اور کبھی کوئی مرزا صاحب کو ترس کھا کے مشاعرہ پڑھوا بھی دے تو سامعین کی طرف سے خوب خوب بھپتیاں کسی جاتی ہیں۔ دو ایک بار تو موصوف مشاعرے میں زبردستی کلام پڑھنے کی ضد میں حوالات کی ہوا بھی کھا چکے ہیں مگر پھر بھی مرزا صاحب بجائے اپنی اصلاح کرنے کے لوگوں کو ہی برا بھلا کہتے ہیں۔اکثر انکی زبان پہ یہ جملہ ہوتا ہے۔’عظیم شعرا کے ساتھ ہرزمانے میں ہمیشہ ایسا ہی سلوک روا رکھا گیا ہے،غالب کو بھی انکی زندگی میں لوگوں نے عزت نا دی تھی،تم دیکھنا میری عظمت کا بھید بھی میرے مرنے کے بعد ہی کھلے گا‘۔مرزا صاحب کی یہ بات سن کہ ہم ہمیشہ اپنے دل میں کہتےہیں چلیں اسی بہانے سہی آپ مریے تو!!!!! مرزا کوئی نئی غزل لکھے اور ہمیں نہ سنائے ہمیں تو حسرت ہی رہی کہ کبھی ایسا بھی ہو۔ کمبخت سے جتنا چھپیں ہمیں ڈھونڈھ ہی لیتا ہے۔ اور اپنی غزل سنا کے ھی دم لیتا ہے۔ مرزا صاحب غزل سنانے کے بعد اس پہ بے لاگ تبصرے کی فرمائش بھی کرتے ہیں اس پہ طرہّ یہ کہ تبصرہ مبالغے کی حد تک تعریفی ہونا چاہیے جہاں آپ نے کوئی تنقیدی جملہ کہا وہیں حضرت پٹری سے اتر جاتے ہیں اور پھر مزرا صاحب کی بد تمیزی سے خود کو محفوظ رکھنا محال ہوجاتا ہے۔ابھی کچھ روز پہلے ہی مرزا صاحب غزل لکھ کے ہمارے پاس آ دھمکے۔غزل ہمیں سننی پڑی پھر مرزا صاحب نے حسب عادت تبصرے کی فرمائش بھی کردی مگر مرزا صاحب اس روز غزل کی اتنی ٹانگیں توڑ کے لائے تھے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہم نے غزل پہ تنقید کر ہی دی۔ہم نے کہا مرزا صاحب آپ کی اس غزل میں نا ردیف کی خبر پڑتی ہے اور نا قافیے کی۔ انتہائی بے وزن غزل ہے۔ ہر شعر کے پہلے مصرے کا دوسرے مصرے سے کوئی ربط معلوم نہیں ہوتا جبکہ موضوع شعر کی بھی کچھ خبر نہیں پڑتی۔ یہ سنتے ہی مرزا صاحب کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہوگیا،قریباً ڈھارنے کے سے انداز میں ھم سے کہا۔ ’اچھاّ تو اب تم ایسا جاہل،شعر و شاعری سے نابلد شخص مجھے ردیف قافیہ سمجھائے گا۔ میاں یہ ردیف قافیہ کی قید تو تم ایسے ٹٹوّ شعرا کے لیے ہے۔عظیم شعرا کے اشعار ردیف قافیے کے محتاج نہیں ہوتے‘۔ پھر حقارت سے ہماری جانب ’ہوں‘ کہ کر چلے گئے ھم پیچھے دانتوں سے بس اپنے ہونٹ کاٹتے رہ گئے حالانکہ حق تو یہ تھا کہ تمیزالدین کا گلا کاٹ دیتے بد تمیز کہیں کا!!!! مرزا صاحب کی بری عادتوں میں سے اک بری عادت پیسے ادھار لینا بھی ہے مگر اس سے بھی بری عادت ادھار لی رقم واپس نہ دینے کی ھے۔ ہر مہینے کی آخری تاریخوں میں مرزا صاحب ہمارے پاس ادھار لینے کی اک نئی وجہ کے ساتھ آموجود ہوتے ہیں۔ ہر مہینے ھی یہ جملہ انکی زبان پہ ھوتا ھے۔’ میاں مجبوری ھے جو تم سے قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔مگر ہم خاندانی لوگ ہیںزیادہ دن خود پہ کسی کا قرض برداشت نہیں کرتے۔ پہلی ھو لینے دو تنخواہ ملتے ہی تم سے لی رقم تمھیں لوٹا دونگا‘۔ پھر نیا مہینہ بھی آتا ہے اور پہلی تاریخ بھی مگر نہیں آتے تو مرزا صاحب نہیں آتے۔ مہینے کی ۱۵ یا ۱۶ تاریخ کو موصوف کا دوبارہ ظہور ھوتا ہے ھم سے لیا قرض چکانے کے بجائے اپنے غائب ہونے کی کوئی بھی نامعقول وجہ بیان کر دیتے ہیں جو ہمیں طوعاً کراہاً ماننی پڑتی ہے۔ یہ سلسہ ہر مہینے یوں ہی جاری رہتا ہے۔ اک روز ھم نے مرزا سے خود ھی روپوں کا تقاضہ کرلیا جواباً مرزا صاحب ہم پہ برس پڑے کہنے لگے ’دھت تیرے کی!!!اک تو تم ایسے چھوٹے آدمی سے قرض لینا بھی گویا اپنی پگڑی اچھلوانے کے مترادف ہے،ارے ہمیں تم سے قرض لیے بھلا دن ھی کتنے ہوئے ہیں جو تم تقاضہ کرتے ہو،گویا شریف آدمیوں کے لیے تو اب یہ دنیا جیسے رہی ہی نہیں،خاندانی لوگوں کو بھی یوں ذلیل و خوار ہونا پڑ رہا ہے‘۔ ۔جانے مرزا خود کو کہاں کا خاندانی سمجھتا ہے لاکھ تحقیق کے با وجود مرزا کا تعلق نہ تو کسی مغل شہنشاہ کے خاندان کے ساتھ ثابت ہوتا ہے،نہ مرزا صاحب سیّد ہیں،اور نہ مرزا صاحب کے خاندان میں کسی عالم،فاضل،یا کسی قابل شخصیت کے پیدا ہونے کا ہی کوئی ثبوت ہے،۔جی تو اس روز ہمارا بہت جلا مگر ہم نے مرزا کی بدتمیزی کو درگزر کرنا ہی افضل جانا اور خون کے گھونٹ پیتے اپنے گھر لوٹ آئے!!! مرزا پرلے درجے کے مفت خور بھی واقع ہوئے ہیں،مفت کی دعوتیں کھانے کے لیے بس موقعے کی طاق میں رہتے ہیں،شادی اپنوں کی ہو یا پرائے کی مرزا کا شرکت کرنا لازمی ہوتا ہے اس کے لیے مرزا صاحب دعوت کا ملنا بھی ضروری نہیں سمجھتے پوری شادی کی تقریب میں مرزا کو جس چیز کا شدّت سے انتظار ہوتا ہے وہ دیگوں کے ڈھکن اٹھنے کا انتظار ہوتا ہے۔اک روز ہم اپنے دوست کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے گھر سے نکلے رستے میں مرزا صاحب مل گئے۔ جھٹ ہمیں روک لیا اور کہا۔’کیوں صاحب آج اتنے تیار لگ رہے ہو کہاں کا ارادہ ہے‘۔ ہم نے مرزا کو ٹالنے کی بہتیرا کوشش کی مگر مرزا صاحب ٹلنے کا نام نہ لیتے تھے۔مجبوراً بتانا پڑا کہ آج ہمارے دوست کی بارات ہے وہیں جارہے ہیں۔ بس پھر کیا تھا مرزا کی مفت خوری کی رگ پھڑک اٹھی ہمارے لاکھ سمجھانے کے باوجود ہمارے ساتھ ساتھ ھی چلے آئے۔ دوست کے گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ جناب تو ابھی دولہا بننے میں مصروف ھیں ھم بھی اپنے دوست کے پاس اس کے کمرے میں آگئے۔ دوست کو دیکھا تو وہ کچھ پریشان لگا ھم نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا۔’یار تمہیں تو پتہ ھے یہ آج کل بارات کے آگے اک گاڑی میں بڑےبڑے اسپیکر لگا کے شادی بیاہ کے گانے بجائے جاتے ھیں میری بارات کے لیے بھی احباب نے ایسا ہی انتظام کیا ہے،تم تو جانتے ھو مجھے اس طرح کی کوئی چیز پسند نہیں مگر گھر والوں کی ضد کے آگے ھتیار ڈالنے پڑے ہیں،مگر میں چاھتا ہوں اس گاڑی میں کوئی معقول قسم کا بندہ ساتھ ھو تاکہ کھلنڈرے قسم کےنو جوان بھونڈے اور بیہودہ قسم کے گانے نا چلایئں‘۔ اس نے پہلے ہمیں ہی یہ ذمےداری نبہانے کا کہا مگر ہم نے معذرت کرلی مرزا صاحب جو ہمارے پیچھے دولھا کے کمرے میں آگئے تھے اور ہمارے ساتھ ہی کھڑے تھے انھوں نے ہمارے کان میں سرگوشی کی کہ وہ یہ ذمےداری احسن طریقے سے نبہا سکتے ہیں۔ ہمارے کہنے پہ ہمارے دوست نے مرزا صاحب کو یہ زمےداری سونپ دی۔ خیر صاحب بارات چلی۔ھم دولہا کے ساتھ اس کی گاڑی میں سوار تھے اور مرزا صاحب گانوں والی گاڑی میں۔ تمام رستے مرزا صاحب نے چن چن کے خوب معیاری گانے چلائے،ہم مسرور تھے کہ آج مرزا ہمارے کچھ تو کام آئے۔جب بارات شادی ھال کے قریب پہنچی تو دلہن والے بھی بارات کو دیکھنے کے لیے ہال سے باہر نکل آئے۔ چند دوست احباب دولہا کی گاڑی کے آگے رقص کے ارادے سے جمع ھوگئے۔مرزا صاحب کو اشارہ کیا گیا کہ وہ کوئی دھماکے دار گانا چلا دیں۔مرزا صاحب نے اشارہ پاتے ہی ایک گانا چلا دیا۔پہلے تو بنا میوزک کے اک آواز بلند ہوئی گانے کے بول کچھ یوں تھے۔ آج خوشی کا دن ہے ٓا یا نکلا مہورت چنگا سوٹ پین کے بن گیا دولہا کل تک تھا جو ننگا گھر والوں کا نام نہ لینا بچے ڈر جائینگے پیٹ پیٹ کے چھاتی سیاپہ پائنگے، اور پھر بےہنگم موسیقی کا طوفان بلند ھئا اور گانے کے بول کچھ یوں سنائی دے رہے تھے۔ تینو گھوڑی کینے چڑھایا بھوتنی کے تینو دولہا کینے بانایا بھوتنی کے بھوتنی کے بھوتنی کے تینو گھوڑی کینے چڑھایا بھوتنی کے بس جناب پھر کیا تھا قہقوں کا وہ طوفان اٹھا جو تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اپنے منہ سے بلند ھونے والے قہقے کو ہم بھی قابومیں نہ رکھ سکے تھے۔ ہمارے دوست نے انتہائی غصے میں بڑی خوں خوار نظروں سے ہمیں گھورا پہلے تو فوری طور پہ ہمیں گاڑی سے اتر جانے کو کہا اور پھر خود بھی گاڑی سے اتر کر سیدھا مرزا صاحب کی جانب بڑھا۔ مرزا صاحب تو سب سے بے نیازانہ رقص میں مصروف تھے۔ ہمارے دوست نے مرزا کے قریب پہنچ کے مرزا کو گریبان سے پکڑ لیا۔ پھر وہ گھمسان کا رن پڑا کہ ال امان ال حفیظ۔ ۔ مختصر یہ کہ اس روز مرزا صاحب خوب پٹے اور ہمیں بھی پٹوایا۔ خیر جیسے تیسے ماملہ رفع دفع ہوا۔ ہم مرزا کو لیکر وہاں سے بھاگے۔ تمام رستے مرزا ھمارے دوست کو اور ھم مرزا کو لعنت ملامت کرتے رہے۔ مرزا اب بھی قائل نہ ہوتے تھے کہ انھوں نے کچھ غلط کیا ہے!!!! آج کل ہم نے مرزا سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر رکھا ھے۔ گھر وہ آتے ہیں تو ہم اندر سے منع کروا دیتے ھیں ،اپنا نمبر تبدیل کر لیا ہے،ھر نماز میں دعا مانگتے ہیں کہ یا اللہ مرزا کی یاداشت ضبط کرلے کچھ ایسا کردے کہ مرزا ہمارا پیچھا چھوڑ دیں۔ دل کے ہم نرم ہیں اس لیے مرزا کے مرنے کی دعا نہیں مانگتے ہاں مگر یہ دعا ضرور کرتے ہیں کہ اگر کوئی اور مرزا کے مرنے کی دعا مانگتا ہوتو یاالہی مرزا کے حق میں اس کی دعا قبول فرما لے۔آمین ثم آمین!!!! |
|
|
|
![]() |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|
Similar Threads
|
||||
| Thread | Thread Starter | Forum | Replies | Last Post |
| postgraduate doctor | dr.faizan | Urdu Columns & Articles | 0 | 12-12-2011 12:47 PM |