Welcome, Unregistered.

If this is your first visit, be sure to check out the http://www.urdustuff.com/forums/FAQ by clicking the link above. You may have to http://www.urdustuff.com/forums/register before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages, select the forum that you want to visit from the selection below.

Reply
Old 08-18-2011, 02:29 AM   #1 (permalink)
DUA
 
DUA's Avatar
 
Status: Moderator
Join Date: Jul 2011
Posts: 1,440

Thanks: 535
Thanked 196 Times in 159 Posts


Default تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سے

تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سے
نہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہوتم
وہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہے
ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تم
چھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینی
خود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تم

میری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دو
امید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیں
میری حیات کی غمگینیوں کاغم نہ کرو
غمِ حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیں
تم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرو
وفا فریب ہے، طول ہوس ہے کچھ بھی نہیں

مجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہو؟
مری فنا مرے احساس کا تقاضا ہے
میں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کو
مجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہے
یہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہے
شکستِ ساز کی آواز روحِ نغمہ ہے

مجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیں
مرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تم
یہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروں
مگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تم
خفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پر؟
تمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تم

مرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گا
مگر خدا کے لیے تم اسیرِغم نہ رہو
ہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیا
یہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا، سوچو تو
مجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کی
میں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دو

میں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گا
مگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتا
میں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتاہوں
مگر یہ بارِ مصائب اٹھا نہیں سکتا
تمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھے
نجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتا

یہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلے
ہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صدا
ہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شور
ہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکا
یہ کارخانوں میں لوہے کا شوروغل جس میں
ہےدفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہ

یہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑھیوں کی جھلک
یہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشے
یہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شور
یہ پٹڑیوں پہ غریبوں کے زرد رو بچے

گلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرے
حسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئی
یہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواں
خریدی جاتی ہے اٹھتی جوانیاں جن کی
یہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفت
یہ ذلّتیں، یہ غلامی یہ دورِ مجبوری

یہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کو
اداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
__________________
DUA is offline   Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to DUA For This Useful Post:
Akaash (08-18-2011), FLORENCE (08-18-2011)
Sponsored Links
Old 08-18-2011, 05:38 AM   #2 (permalink)
 
FLORENCE's Avatar
 
Status: Moderator
Join Date: Jul 2011
Posts: 517

Thanks: 201
Thanked 289 Times in 224 Posts


Default

Really Very Nice..
thxxxxxxxx
FLORENCE is offline   Reply With Quote
The Following User Says Thank You to FLORENCE For This Useful Post:
DUA (08-19-2011)
Old 12-05-2011, 11:58 AM   #3 (permalink)
 
Abdul Rehman's Avatar
 
Status: Moderator
Join Date: Sep 2011
Posts: 1,415

Thanks: 149
Thanked 75 Times in 65 Posts


Default

thanks for sharing
Abdul Rehman is offline   Reply With Quote

Reply

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are Off

Forum Jump




All times are GMT. The time now is 04:25 PM.


Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.