| |
If this is your first visit, be sure to check out the http://www.urdustuff.com/forums/FAQ by clicking the link above. You may have to http://www.urdustuff.com/forums/register before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages, select the forum that you want to visit from the selection below.
![]() |
|
|
#1 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
کہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے
لگا، "تُم سے محبت ہے" مجھے اُس نے کہا جیسے طلب کی اُس نے جب مجھ سے محبت کی وضاحت تو بتایا، دَشت کے ہونٹوں پہ بارش کی دُعا جیسے سُنو کیوں دل کی بستی کی طرف سے شور اُٹھتا ہے ؟ بتایا، حادثہ احساس کے گھر میں ہوا جیسے کہو اے گُل ! کبھی خوشبو کا تُم نے عکس دیکھا ہے ؟ کہا ، قوسِ قزح کے سارے رنگوں کی صدا جیسے سُنو ، خواہش کی لہروں پر سنبھلنا کیوں ہوا مُشکل ؟ بتایا پانیوں پر خواب کی رکھی بنا جیسے بھلا تُم رُوح کی اِن کِرچیوں میں ڈھونڈتے کیا ہو ؟ کہا ، یہ اتنی روشن ہیں کہ سُورج ہے دیا جیسے سُنو آنکھوں کی آنکھوں کا بیاں کیسا لگا تُم کو ؟ لگا ، پھولوں سے سرگوشی سی کرتی ہو صبا جیسے فاخرہ بتول |
|
|
|
| Sponsored Links |
|
|
|
|
#2 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کرگیا
نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کرگیا وہ زہر کی طرح مرے دل میں اتر گیا پلکیں لرز کے رہ گئیں اور دیپ بجھہ گئے الزام اب کے بار بھی آندھی کے سر گیا اب کس لئے سنبھال کے رکھوں بصارتیں آنکھوں سے خواب چھین کے جب چارہ گر گیا اس سے بچھڑ کے دل کا ہوا ہے عجیب حال پانے کی آرزو گئی، کھونے کا ڈر گیا جب موسموں نے پھر سے بغاوت کی ٹھان لی ٹہنی پہ پھول کھلنے سے پہلے بکھر گیا بہتر ہے خود رفو گری سیکھوں کہ آج تو گھاؤ کھلے ہی چھوڑ کے وہ چارہ گر گیا اس پر یقیں بحال ہوا تو وہ ایک دم اقرار کے مقام پہ آ کر مکر گیا آنکھوں سے نیند، دل سے سکوں ہوگیا جدا لگتا ہے اپنے ساتھ کوئی ہاتھہ کرگیا سورج نے ساتھہ چھوڑا تو دیکھا پلٹ کے تب سوچا، جو ساتھہ چلتا تھا سایہ کدھر گیا فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#3 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
مسیحا “
خُدا نے جب شفاء تقسیم سارے زمانے میں تمھاری اُنگلیوں پر اُس نے اپنے ہاتھ سے لکھا کسی بیمار کو چُھو لو شفاء اُس کا مقدر ہے تم ہر بیمار کو اپنا سمجھتے ہو مداوہ اس کا کرتے ہو ہر اک بیمار کے چہرے پہ رونق تم سے قائم ہے دُعا عیسٰی کی تم کو لگ گئی شاید تُمھی اُمید ہو اُس کی شفاء ہاتھوں پہ تم نے رب سے لکھوا لی مسیحا ہو فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#4 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
زندگی خوابِ پریشاں سے زیادہ تو نہیں
اس میں تعبیر بھی مل جائے یہ وعدہ تو نہیں بات نے بات اُلجھنے کی یہ خُو کیسی ہے؟ یہ بتا تیرا بچھڑنے کا ارادہ تو نہیں کون خوشبو کے تعقب میں گیا دور تلک لوگ سادہ ہیں مگر اتنے بھی سادہ تو نہیں آپ جائیں گے تو ہم حد سے گزر جائیں گے شہسوار آپ سہی، ہم بھی پیادہ تو نہیں کس خوشی میں بھیجا ہے بتا سُرخ گلاب؟ ظلم کا یہ تیری جانب سے ارادہ تو نہیں بےوفا ہم ہی سہی، خود پہ بھی کچھ غور کرو بے رُخی آپ کی بھی حد سے زیادہ تو نہیں فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#5 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
ادھ کھلی آنکھوں میں کچھ خواب جگائے اس نے
خود ہی تعبیر کے امکان مٹائے اس نے جس کے ہاتھوں نے کماں کو کبھی تھاما ہی نہ تھا تیر اَن دیکھے مرے دل پہ چلائے اس نے میرے مٹی کے گھروندے کو گِرا کر پل میں خود ہواؤں میں کئی محل بنائے اس نے وہ دیالو ہے مگر اتنا دیالو بھی نہیں روشنی چھین کے کچھ دے دئیے سائے اس نے کہکشاں ساری کی ساری ہی چھپا کر گھر میں کچھ ستارے میری پلکوں پہ سجائے اُس نے فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#6 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
زمانہ چاہتا ہے ہر گھڑی بس نِت نئی باتیں
نئے دن اور نئی شامیں، نئی صبحیں نئی راتیں نئی قسمیں، نئے وعدے، نئے رشتے، نئے ناتے پُرانے جو بھی قصے تھے وہ اب اس کو نہیں بھاتے میں خود لفظوں کی مصرعوں کی بہم تکرار سے جاناں! بہت اُکتا گئی تھی اب تو میں نے یوں کیا، لفظوں کو مصرعوں کو لپیٹا سُرخ کاغذ میں پھر ان کو من میں رقصاں آگ دکھلا دی ہوا میں راکھ کے اُڑتے ہوئے ذرّوں نے جب پوچھا کرے گی کیا؟ سُنے گی کیا، کہے گی کیا؟ تیرا دامن تو خالی ہے کہا میں نے، مجھے اب کچھ نہیں کرنا مجھے اب کچھ نہیں سُننا، مجھے اب کچھ نہیں کہنا کہانی اوڑھ لی میں نے فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#7 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
میں، مرے بعد مٹ نہیں سکتی
میں نے اک لفظ اوڑھ رکھا ہے جو ہے تجدید زندگانی کی یہ زمان و مکان کچھ بھی نہیں یہ زمیں، آسماں کچھ بھی نہیں کچھ نہیں ہے یہ وصل اور فرقت اور یقین و گمان کچھ بھی نہیں آنکھ جھپکی تو گُم ہوا منظر تیر کیا ہے؟ کمان کچھ بھی نہیں جب بھی سورج کے تھال پر لمحہ، موم بن کر پگھل رہا ہوگا جس میں سایہ بھی جل رہا ہوگا ہاں، مگر لفظ جی رہے ہونگے موت لفظوں کو کھا نہیں سکتی لفظ زندہ رہے گا، رہنا ہے جس نے کہنا ہے ۔۔۔ اُس نے کہنا ہے میں نے اک لفظ اوڑھ رکھا ہے جو ہے تجدید زندگانی کی میں، مرے بعد مٹ نہیں سکتی فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#8 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
محبت حادثہ ہے
حادثے سے بچ نکلنے کی، کوئی تدبیر کر لو اس سے پہلے خواب ہو جاؤ جسے ہم حادثہ کہتے ہیں جیون کو گھڑی بھر میں مِٹا کر خاک کرتا ہے کوئی الزام دھرتا ہے کبھی معذوریوں کے جال میں قیدی، بنا کر چھوڑ دیتا ہے یہ بندھن توڑ دیتا ہے محبت حادثہ ہے حادثے سے بچ نکلنے کی کوئی تدبیر کر لو، اس سے پہلے خواب ہو جاؤ فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#9 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
طمانچہ
مت تہذیب تمدّن کی تم، ہم سے بات کرو دل کا درد چھلک جائے گا ورنہ آنکھوں سے غیرت کے اس نام پہ اب تک جتنے خون ہوئے ان میں کل اک چار سال کی بچی بھی دیکھی جس نے ہاتھ میں کپڑے کی اک گُڑیا تھامی تھی مٹھی میں اک ٹافی تھی جو اس نے کھانی تھی اُس کی پلکوں پر حیرت تھی، حیرت میں تھا خوف گردن پر خنجر کا گھاؤ اتنا گہرا تھا جیسے اُس کو کاٹنے والا ہاتھ پرایا ہو گھر کے غیرت مند مردوں سے، پوچھ سکی نہ وہ بابا، بھّیا، بولو غیرت کس کو کہتے ہیں!!! مت تہذیب، تمّدن کی تم ہم سے بات کرو فاخرہ بتول |
|
|
|
|
|
#10 (permalink) |
|
Status: Member
Join Date: Sep 2011
Posts: 56
Thanks: 2
Thanked 15 Times in 11 Posts
|
ہجوم میں مجھ کو تو نے کھڑا کیا بھی تو کیا
عدو کا کام ترے ہاتھ سے ہوا بھی تو کیا میں جی رہی ہوں تو یہ کم ہے،غور کرنا کبھی یہ آسماں مرے سر پہ آ پڑا بھی تو کیا بہت سے لوگوں نے سینے پہ ہاتھ رکھے ہیں یہ تیر آج میرے دل میں چبھ گیا بھی تو کیا گُلاب خاک پہ رکھا تو خار مُٹھی ہیں ستم شعار! تجھے یہ ہنر ملا بھی تو کیا وہاں پہ جا کے بھی جب نامراد ہونا ہے یہ راستہ تیری چوکھٹ پہ لے گیا بھی تو کیا خوشی ہوئی ہے یہ سن کر مگر بتا تو صحیح تو ہوگیا جو مرے بعد باوفا بھی تو کیا نہ دل بچا ہے نہ خواہش، ملے ہو اب جا کے اب اِس مقام پہ مجھ کو ملے خدا بھی تو کیا ستارے مل کے بھی یہ تیرگی مٹا نہ سکے ہے میرے ہاتھ میں مٹی کا دِیا بھی تو کیا اسے تو قید کی عادت سی ہوگئی تھی بتول یہ دل ہوا تری یادوں سے اَب رہا بھی تو کیا فاخرہ بتول |
|
|
|
![]() |
| Thread Tools | |
| Display Modes | |
|
|