Welcome, Unregistered.

If this is your first visit, be sure to check out the http://www.urdustuff.com/forums/FAQ by clicking the link above. You may have to http://www.urdustuff.com/forums/register before you can post: click the register link above to proceed. To start viewing messages, select the forum that you want to visit from the selection below.

Reply
Old 08-21-2011, 11:40 PM   #1 (permalink)
DUA
 
DUA's Avatar
 
Status: Moderator
Join Date: Jul 2011
Posts: 1,440

Thanks: 535
Thanked 196 Times in 159 Posts


Default شرعاً جائز یا ناجائز کام میں ائمہ کا اختلا

س…اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں کام فلاں امام کے نزدیک جائز ہے، لیکن فلاں کے نزدیک جائز نہیں۔ دینی اعتبار سے کوئی بھی کام ہو دو باتیں ہی ممکن ہیں جائز یا ناجائز، لیکن یہاں بات مہمل سی ہے، اصل بات بتائیں، میں نے پہلے بھی کئی ایک سے پوچھا مگر کسی نے مجھے مطمئن نہیں کیا۔

ج… بعض امور کے بارے میں تو قرآن کریم اور حدیث نبوی (صلی اللہ علیٰ صاحبہ وسلم) میں صاف صاف فیصلہ کردیا گیا ہے (اور یہ ہماری شریعت کا بیشتر حصہ ہے) ان امور کے جائز و ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف نہیں، اور بعض امور میں قرآن و سنت کی صراحت نہیں ہوتی، وہاں مجتہدین کو اجتہاد سے کام لے کر اس کے جواز یا عدمِ جواز کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ علم و فہم اور قوتِ اجتہاد میں فرق ایک طبعی اور فطری چیز ہے، اس لئے ان کے اجتہادی فیصلوں میں اختلاف بھی ہے، اور یہ ایک فطری چیز ہے، اس کو چھوٹی سی دو مثالوں سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

ا:…آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک مہم پر روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ عصر کی نماز فلاں جگہ جاکر پڑھنا۔ نماز عصر کا وقت وہاں پہنچنے سے پہلے ختم ہونے لگا تو صحابہ کی دو جماعتیں ہوگئیں، ایک نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر نمازِ عصر پڑھنے کا حکم فرمایا ہے، اس لئے خواہ نماز قضا ہوجائے مگر وہاں پہنچ کر ہی پڑھیں گے، دوسرے فریق نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشائے مبارک تو یہ تھا کہ ہم غروب سے پہلے پہلے وہاں پہنچ جائیں، جب نہیں پہنچ سکے تو نماز قضا کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

بعد میں یہ قصہ بارگاہ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوا تو آپ نے دونوں کی تصویب فرمائی اور کسی پر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا۔ دونوں نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق منشائے نبوی کی تعمیل کی (صلی اللہ علیہ وسلم)، اگرچہ ان کے درمیان جواز و عدمِ جواز کا اختلاف بھی ہوا۔ اسی طرح تمام مجتہدین اپنی اجتہادی صلاحیتوں کے مطابق منشائے شریعت ہی کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کے درمیان اختلاف بھی رونما ہوجاتا ہے، اور اس اختلاف کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ برداشت فرمایا، بلکہ اس کو رحمت فرمایا، اور اس ناکارہ کو اس اختلاف کا رحمت ہونا اس طرح کھلی آنکھوں نظر آتا ہے جیسے آفتاب۔

دوسری مثال:…ہمیں روز مرہ پیش آتی ہے کہ ایک ملزم کی گرفتاری کو ایک عدالت جائز قرار دیتی ہے اور دوسری ناجائز، قانون کی کتاب دونوں کے سامنے ایک ہی ہے، مگر اس خاص واقعہ پر قانون کے انطباق میں اختلاف ہوتا ہے، اور آج تک کسی نے اس اختلاف کو “مہمل بات” قرار نہیں دیا۔ چاروں ائمہ اجتہاد ہمارے دین کے ہائی کورٹ ہیں، جب کوئی متنازعہ فیہ مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوتا ہے تو کتاب و سنت کے دلائل پر غور کرنے کے بعد وہ اس کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ ایک کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ جائز ہے، دوسرے کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ ناجائز ہے، اور تیسرے کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ مکروہ ہے، اور چونکہ سب کا فیصلہ اس امر کے قانونی نظائر اور کتاب و سنت کے دلائل پر مبنی ہوتا ہے، اس لئے سب کا فیصلہ لائق احترام ہے، گو عمل کے لئے ایک ہی جانب کو اختیار کرنا پڑے گا۔ یہ چند حروف قلم روک کر لکھے ہیں، زیادہ لکھنے کی فرصت نہیں، ورنہ یہ مستقل مقالے کا موضوع ہے۔

کسی ایک فقہ کی پابندی عام آدمی کے لئے ضروری ہے

مجتہد کے لئے نہیں
__________________
DUA is offline   Reply With Quote
Sponsored Links
Old 10-12-2011, 07:47 AM   #2 (permalink)
 
Abdul Rehman's Avatar
 
Status: Moderator
Join Date: Sep 2011
Posts: 1,415

Thanks: 149
Thanked 75 Times in 65 Posts


Default

JazakAllah
Abdul Rehman is offline   Reply With Quote

Reply

Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are Off

Forum Jump




All times are GMT. The time now is 04:02 PM.


Powered by vBulletin®
Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.