View Single Post
Old 06-18-2011, 01:49 PM   #10 (permalink)
Virdan
 
Virdan's Avatar
 
Status: Administrator
Join Date: Jun 2011
Posts: 544

Thanks: 149
Thanked 313 Times in 230 Posts


Default

احمد فراز کي شاعري ميں فارسي اور اردو
کلاسيکي شاعري کي تمام ترلطيف روايات کا
تسلسل ملتا ہے، جس ميں غم جاناں کي
رومان انگيزي بھي ہے اور غم دوراں کا کرب بھي




جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا

جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا


یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے
سو لازمی تھا ترے پیرہن کا جل جانا


تمہیں کرو کوئی درماں ، یہ وقت آپہنچا
کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا


ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی
ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا


سجی سجائی ہوئی موت زندگی تو نہیں
مورخوں نے مقابر کو بھی محل جانا


یہ کیا کہ تو بھی اسی ساعتِ زوال میں ہے
کہ جس طرح ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا


ہر ایک عشق کے بعد اور اس کے عشق کے بعد
فراز اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جانا


احمد فراز
Virdan is offline   Reply With Quote
The Following User Says Thank You to Virdan For This Useful Post:
Abdul Rehman (10-23-2011)