Thread
:
Ahmad Faraz's Poetry
View Single Post
06-18-2011, 01:45 PM
#
1
(
permalink
)
Virdan
Status:
Administrator
Join Date:
Jun 2011
Posts:
544
Thanks: 149
Thanked 313 Times in 230 Posts
Ahmad Faraz's Poetry
Asslam o Alaikum
Mein Koshish keron ga k is Thread mein Ahmed Fraz sahib ki jitni bhi poetry share ker sakon woh zaroor keron so aap bhi chahein to participate ker saktay hain
Introduction of Ahmad Fraz
احمد فراز کی پیدائش 14/جنوری سنہ1931 کو نوشہرہ 'صوبہ سرحد' میں ہوئی تھی۔ ان کے والد برق کوہاٹی بھی اپنے عہد کے ایک نامور شاعر تھے۔ پاکستان کے صوبہ سرحد میں فارغ بخاری، رضا ہمدانی، خاطر غزنوی اور محسن احسان کے ساتھ برق کوہاٹی کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اسی طرح احمد فراز اردو شاعری کا ایک معتبر نام ہے اور ان کی غزلوں کا ایک بڑا سرمایہ آنے والے عہد میں بھی اردو شائقین کو مالامال کرتا رہے گا۔ ان کی شاعری کا خمیر بھی صوبہ سرحد سے اٹھا۔ پشاور میں فارغ بخاری کے گھر پر تشکیل پانے والی اردو کی ترقی پسند تحریک کے نوجوان حلقے کے وہ سرخیل سمجھے جاتے تھے۔
ان کا اصل نام سید احمد شاہ اور تخلص فراز ہے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم اے کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان کے اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے کیا۔ وہ پشاور یونیورسٹی میں لیکچرر بھی رہے۔ اس کے بعد نیشنل سنیٹر کے ڈائرکٹر ہوئے۔ سنہ 1977 میں وہ اکیڈمی ادبیات کے بانی ڈائرکٹر ہوئے اور چیئرمین کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ بعد میں کئی برسوں تک نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد کے چیئرمین بھی رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں جلاوطنی کے دوران ہی ان کی بہترین انقلابی شاعری کی تخلیق ہوئی۔ اسی دوران کی ایک نظم 'محاصرہ' بہت مشہور ہوئی۔ انہوں نے بے شمار قومی ایوارڈز حاصل کئے جن میں سنہ 2000 میں ''ہلال امتیاز'' بھی شامل ہے۔ اس ایوارڈ کو انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واپس کردیا۔
ان کی شعری تصانیف میں تن تنہا، جان جاناں، درد آشوب، نایافت، سب آوازیں میری ہیں، بے آواز گلی کوچوں میں، آئینوں کے شہر میں نابینا، غزل بہانہ کرو، خواب گل پریشاں سے، سخن آراستہ، اے عشق جنوں پیشہ شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں کی کلیات ہندوستان میں فرید بکڈپو پرائیویٹ لمٹیڈ، نئی دہلی نے شائع کردی ہے۔ اس کلیات کو جب احمد فراز کی خدمت میں اس کے مرتب فاروق ارگلی نے پیش کی تھی تو اسے دیکھ کر احمد فراز نے بے حد مسرت کا اظہار کیا تھا۔
اردو ادب کے نوجوان ادیب و ناقد حقانی القاسمی کے الفاظ میں:
''احمد فراز کی وفات کے ساتھ ہی رومان اور مزاحمت کے ایک باب کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ مزاحمت کا ایک جلی عنوان تھے جنہوں نے اپنے ذہن اور ضمیر کا سودا نہیں کیا اور نہ کبھی زہر ہلاھل کو 'قند' کہا۔ وہ اردو شاعری میں ایک حسینی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کے اندر نہ روباہی تھی اور نہ ہی خوف و خطر بلکہ شجاعت اور شہامت تھی۔ ان کی شاعری میں موج منصوری اور سکرسرمدی تھی۔ فیض احمد فیض نے جس انقلابی آہنگ کو اختیار کیا تھا، احمد فراز کا بھی وہی آہنگ تھا۔
''
Some Poetry
The Following 4 Users Say Thank You to Virdan For This Useful Post:
Abdul Rehman
(10-23-2011),
DUA
(10-07-2011),
FLORENCE
(08-12-2011),
jan_zhob
(04-19-2012)
Sponsored Links
Virdan
View Public Profile
Send a private message to Virdan
Visit Virdan's homepage!
Find all posts by Virdan